سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1523
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، وَهُشَيْمٌ، قَالَا جَمِيعًا: نا دَاوُدُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عُمَرَ، وَقَالَ هُشَيْمٌ: ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ قَالَ: قَالَ لِي: أَوْصَى أَبُوكَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَمُرْهُ فَلْيُوصِ، فَإِنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّهُ مِنْ تَمَامِ مَا نَقَصَ مِنَ الزَّكَاةِ»مظاہر امیر خان
ثمامہ بن حزن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میرے والد نے وصیت نہیں کی تھی، تو انہوں نے فرمایا: اسے کہو کہ وصیت کرے کیونکہ یہ زکاۃ میں سے جو کمی ہوئی ہے، اسے مکمل کرتی ہے۔“