سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1522
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أنا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: «مَنْ أَوْصَى بِوَصِيَّةٍ فَلَمْ يَجُرْ وَلَمْ يَحِفْ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ مَا أَعْطَاهَا، وَهُوَ صَحِيحٌ»مظاہر امیر خان
عامر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس نے وصیت کی اور نہ زیادتی کی اور نہ ظلم کیا، اس کو اس چیز کا اجر ملے گا جو اس نے دی، جبکہ وہ تندرست ہو۔“