سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1514
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " كَانَ الْخُمُسُ فِي الْوَصِيَّةِ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ الرُّبُعِ، وَالرُّبُعُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ الثُّلُثِ، وَكَانَ يُقَالُ: هُمَا الْمُرَّيَانِ مِنَ الْأَمْرِ: الْإِمْسَاكُ فِي الْحَيَاةِ، وَالتَّبْذِيرُ فِي الْمَمَاتِ "مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پانچواں حصہ کی وصیت چوتھائی سے بہتر تھی، اور چوتھائی تہائی سے بہتر، اور کہا جاتا تھا کہ زندگی میں بخل اور موت پر اسراف یہ دونوں بری باتیں ہیں۔“