سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1513
سَعِيدٌ قَالَ: نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ سُوَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: " أَمَرَنِي وَالِدِي أَنْ أَسْأَلَ عُلَمَاءَ أَهْلِ الْبَصْرَةِ: أَيُّ الْوَصِيَّةِ أَمْثَلُ؟ فَمَا تَتَابَعُوا عَلَيْهِ فَهُوَ وَصِيَّتِي، فَسَأَلْتُهُمْ فَتَتَابَعُوا عَلَى الْخُمُسِ "مظاہر امیر خان
علاء بن زیاد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس کے والد نے اسے حکم دیا کہ بصرہ کے علماء سے پوچھے کہ بہترین وصیت کیا ہے؟ سب نے پانچواں حصہ کی وصیت پر اتفاق کیا۔