سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1510
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أنا عَطَاءٌ بْنُ السَّائبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَّا يَبْلُغُ فِي وَصِيَّتِهِ الثُّلُثَ حَتَّى يَنْقُصَ مِنْهُ شَيْئًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الثُّلُثُ , وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ»مظاہر امیر خان
حضرت ابو عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے کہا: ”ہم میں سے کوئی بھی اپنی وصیت میں تہائی مال تک نہیں پہنچتا تھا، یہاں تک کہ اس میں کچھ کمی کرتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ» کی وجہ سے۔“