سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1509
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «أَوْصَيْتَ؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ أَوْصَيْتُ بِمَالِي كُلِّهِ لِلْفُقَرَاءِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْصِ بِالْعُشْرِ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مَالِي كَثِيرٌ وَوَرَثَتِي أَغْنِيَاءُ , فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاقِصُنِي، وَأُنَاقِصُهُ حَتَّى قَالَ: «أَوْصِ بِالثُّلُثِ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ»مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب میں مکہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے آئے، میں نے کہا: میرا مال زیادہ ہے اور کوئی وارث نہیں سوائے ایک بہن کے، کیا میں سارا مال وصیت کر دوں؟“ فرمایا: ”نہیں۔“ پھر آدھا؟ فرمایا: ”نہیں۔“ پھر تہائی؟ فرمایا: ”تہائی اور تہائی بھی زیادہ ہے، اپنے وارثوں کو خوشحال چھوڑنا بہتر ہے۔“