سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: نا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ قَدِمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ قَالَ: فَمَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَقْتُ عَلَى نَفْسِي الْمَوْتَ، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَدَعُ مَالًا كَثِيرًا، وَلَا أَدَعُ وَارِثًا إِلَّا ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لَا» قَالَ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ: «لَا» قَالَ: فَالثُّلُثُ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ , وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ. إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً - أَظُنُّهُ قَالَ - تُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ فِيهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي قَالَ: «إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكِ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ»سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں مکہ میں بیمار ہوا اور موت کا خوف ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے آئے، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا مال زیادہ ہے اور وارث صرف ایک بیٹی ہے، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟“ فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ”نصف؟“ فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ”تہائی؟“ فرمایا: ”تہائی، اور تہائی بھی بہت ہے، بہتر ہے کہ اپنے وارثوں کو خوشحال چھوڑو، انہیں فقیری میں چھوڑنے سے بہتر ہے، اور جو خرچ اللہ کی رضا کے لئے کرو گے، اس کا تمہیں اجر ملے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔“