سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
مِيرَاثُ الْمُرْتَدِّ باب: مرتد کے ترکے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 1486
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا مُوسَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ عِدَّةِ امْرَأَةِ الْمُرْتَدِّ قَالَ: «ثَلَاثَةُ قُرُوءٍ»، قُلْتُ: فَإِنْ قُتِلَ؟ قَالَ: «فَأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»، قُلْتُ: فَمِيرَاثُهُ؟ قَالَ: «نَرِثُهُمْ وَلَا يَرِثُونَا»مظاہر امیر خان
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ مرتد عورت کی عدت کیا ہے؟ فرمایا: ”تین حیض۔“ پوچھا گیا اگر قتل ہو جائے تو؟ فرمایا: ”چار ماہ اور دس دن۔“ پوچھا گیا کہ اس کی میراث کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: ”ہم ان کی میراث لیتے ہیں اور وہ ہماری میراث نہیں لیتے۔“