حدیث نمبر: 1473
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، فَقَدْ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قُتِلَ زَوْجُهَا فَسَأَلَتْ أَنْ يُوَرِّثَهَا مِنْ دِيَتِهِ فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ لَكِ شَيْئًا، ثُمَّ سَأَلَ النَّاسَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ فَقَالَ: «كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا أَشْيَمَ فَوَرَّثَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ»
مظاہر امیر خان

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک عورت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اپنے شوہر کی دیت میں سے حصہ مانگا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں تمہارے لئے کچھ نہیں جانتا۔“ پھر لوگوں سے پوچھا کہ کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی علم ہے؟ تو ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشیم الضبابی کی بیوی کو اس کے خون بہا میں وارث بنانے کا حکم دیا تھا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو وارث بنایا۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1473
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «إسنادہ صحیح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 3228، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2927، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1415، 2110، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2642، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 295، 296، 297، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15986، 15987، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28123، 28124»