سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ مَنْ قَطَعَ مِيرَاثًا فَرَضَهُ اللَّهُ باب: اللہ کی مقرر کردہ وراثت کو کاٹنے والے کا حکم
حدیث نمبر: 1468
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَسَمَ مَالًا بَيْنَ وَلَدِهِ وَخَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَوُلِدَ لَهُ ابْنٌ بَعْدَهُ، فَمَاتَ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ إِلَى قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ فَقَالَا: " إِنَّ سَعْدًا قَسَمَ بَيْنَ وَلَدِهِ وَمَا يَدْرِي مَا هُوَ كَائِنٌ وَإِنَّا نَرَى أَنْ تَرُدَّ عَلَى هَذَا الْغُلَامِ، فَقَالَ قَيْسٌ: مَا أَنَا بِرَادٍّ شَيْئًا فَعَلَهُ سَعْدٌ وَلَكِنَّ نَصِيبِي لَهُ "مظاہر امیر خان
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کر دیا اور شام چلے گئے، وہاں ان کے ہاں ایک اور بیٹا پیدا ہوا، جب سعد فوت ہو گئے تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”سعد نے اپنے بچوں میں مال بانٹ دیا تھا اور آنے والے بچے کا علم نہ تھا، ہم چاہتے ہیں کہ اس بچے کو بھی حصہ دیا جائے۔“ قیس نے کہا: ”میں اپنے باپ سعد کے کئے ہوئے فیصلے کو نہیں بدلوں گا، لیکن اپنا حصہ اسے دے دوں گا۔“