سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الرَّجُلِ يُعْتِقُ فَيَمُوتُ وَيَتْرُكُ وَرَثَةً ثُمَّ يَمُوتُ الْمُعْتَقُ باب: آزاد کیے گئے غلام کی وراثت کا بیان
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ اخْتَصَمَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ إِلَى عُمَرَ فِي مَوْلَى صَفِيَّةَ فَقَالَ عَلِيٌّ: مَوْلَى عَمَّتِي وَأَنَا أَعْقِلُ عَنْهُ، وَقَالَ الزُّبَيْرُ: مَوْلَى أُمِّي وَأَنَا أَرِثُهُ، فَقَضَى عُمَرُ لِلزُّبَيْرِ بِالْمِيرَاثِ وَقَضَى عَلَى عَلِيٍّ بِالْمِيرَاثِ. قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَالْوَلَاءُ لِآلِ الزُّبَيْرِ مَا بَقِيَ لَهُمْ عَقِبٌ، قُلْتُ: وَمَا الْعَقِبُ؟ قَالَ: وَلَدٌ ذَكَرٌ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ وَلَدٌ ذَكَرٌ رَجَعَ الْوَلَاءُ إِلَى عَلِيٍّسیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موالی صفیہ کے معاملے میں آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ میری پھوپھی کا مولیٰ ہے اور میں اس کی دیت دوں گا۔“ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ میری ماں کا مولیٰ ہے اور میں اس کا وارث ہوں گا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ: ”میراث زبیر رضی اللہ عنہ کو ملے اور دیت علی رضی اللہ عنہ پر ہو۔“ اور فرمایا: ”ولایت آلِ زبیر کے لئے ہے جب تک ان کی نسل باقی ہے۔“ پوچھا گیا کہ نسل کیا ہے؟ فرمایا: ”بیٹا، اگر بیٹا نہ ہو تو ولایت علی رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹ آئے گی۔“