سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الرَّجُلِ يُعْتِقُ فَيَمُوتُ وَيَتْرُكُ وَرَثَةً ثُمَّ يَمُوتُ الْمُعْتَقُ باب: آزاد کیے گئے غلام کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 1450
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: اخْتَصَمَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ فِي مَوَالِي صَفِيَّةَ فَقَالَ عَلِيٌّ: " أَنَا أَعْقِلُ عَنْهُمْ وَأَنَا أَرِثُهُمْ، وَقَالَ الزُّبَيْرُ: مَوَالِي أُمِّي وَأَنَا أَرِثُهُمْ فَنَادَاهُمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: إِنَّكُمَا لَا تَدْرِيَانِ أَيُّكُمَا أَسْرَعُ مَوْتًا , فَسَكَتَا "مظاہر امیر خان
سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما صفیہ کے موالی کے بارے میں جھگڑے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں ان کی دیت دوں گا اور ان کا وارث ہوں گا۔“ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ میری ماں کے موالی ہیں اور میں ان کا وارث ہوں گا۔“ تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہیں نہیں معلوم کہ تم میں سے کون پہلے مرے گا۔“ تو دونوں خاموش ہو گئے۔