حدیث نمبر: 1447
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُبَيْدَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَلَهُ مَوْلًى وَتَرَكَ ثَلَاثَةَ بَنِينَ لَهُ، فَمَاتَ أَحَدُ بَنِيهِ وَتَرَكَ وَلَدًا وَمَاتَ الْمَوْلَى، فَقَالَ: " مِيرَاثُهُ لِابْنَيْهِ، وَلَيْسَ لِابْنِ ابْنِهِ شَيْءٌ، قُلْتُ: فَمَاتَ أَحَدُ الِابْنَيْنِ وَتَرَكَ وَلَدًا ذَكَرًا قَالَ: الْمَالُ لِلْبَاقِي الْآخَرِ، قُلْتُ: فَمَاتَ الْآخَرُ وَلَهُمْ جَمِيعًا أَوْلَادٌ بَعْضُهُمْ أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ قَالَ: الْوَلَاءُ بَيْنَهُمْ جَمِيعًا "
مظاہر امیر خان

ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص مر گیا اور اس کا ایک آزاد کردہ غلام تھا اور اس کے تین بیٹے تھے، ان میں سے ایک مر گیا اور اولاد چھوڑی، پھر غلام مر گیا، تو فرمایا: ”میراث دونوں بیٹوں کے درمیان ہو گی اور پوتے کا کوئی حصہ نہیں، اگر ایک بیٹا مر جائے اور بیٹا چھوڑے تو مال زندہ بیٹے کا ہو گا، اگر دونوں مر جائیں اور ان کی اولاد ہو جن میں بعض بڑے اور بعض چھوٹے ہوں تو ولایت سب کے درمیان ہو گی۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1447
تخریج حدیث «نفرد به المصنف من هذا الطريق»