سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الرَّجُلِ يُعْتِقُ فَيَمُوتُ وَيَتْرُكُ وَرَثَةً ثُمَّ يَمُوتُ الْمُعْتَقُ باب: آزاد کیے گئے غلام کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 1442
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي أَخَوَيْنِ وَرِثَا مَوْلًى كَانَ أَبُوهُمَا أَعْتَقَهُ، ثُمَّ مَاتَ أَحَدُهُمَا وَتَرَكَ ابْنًا، قَالَ شُرَيْحٌ: «مَنْ مَلَكَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ» وَقَالَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ اللَّهِ وَزَيْدٌ: «الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ»مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ دو بھائیوں نے ایک غلام کو وارث بنایا جسے ان کے والد نے آزاد کیا تھا، پھر ان میں سے ایک مر گیا اور بیٹا چھوڑا، تو شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو چیز کسی نے اپنی زندگی میں حاصل کی، اس کا وارث اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء ہوں گے۔“ اور سیدنا علی، سیدنا عبداللہ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”ولایت بڑے کے لئے ہے۔“