حدیث نمبر: 1429
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُجَالِدٌ، قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ، قَالَ: " سُبِيَتِ امْرَأَةٌ يَوْمَ جَلُولَاءَ وَمَعَهَا صَبِيٌّ، فَكَانَتْ تَقُولُ: ابْنِي فَأُعْتِقَا، فَبَلَغَ الْغُلَامُ فَأَصَابَ مَالًا، ثُمَّ مَاتَ، فَأُتِيَتْ بِمِيرَاثِهِ فَقِيلَ: هَذَا مِيرَاثُ ابْنِكِ فَقَالَتْ: لَمْ يَكُنِ ابْنِي إِنَّمَا كُنْتُ ظِئْرَهُ وَكَانَ ابْنَ دِهْقَانِ الْقَرْيَةِ، فَكُتِبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَمَّا أَتَاهُ الْكِتَابُ قَالَ: إِنَّ هَذَا لَيُفْعَلُ فَكَتَبَ إِلَى شُرَيْحٍ: لَا تُوَرِّثُوا حَمِيلًا إِلَّا بِبَيِّنَةٍ "
مظاہر امیر خان

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا گیا کہ جلولاء کے دن ایک عورت قید ہو کر آئی جس کے ساتھ ایک بچہ تھا، وہ کہتی تھی: ”یہ میرا بیٹا ہے۔“ پس دونوں آزاد کر دیے گئے، بچہ بڑا ہو کر مال دار ہوا اور پھر فوت ہو گیا، جب اس کا ترکہ عورت کو دیا گیا تو اس نے کہا: ”یہ میرا بیٹا نہیں تھا، میں تو صرف اس کی دودھ پلانے والی تھی، وہ گاؤں کے دیہقان کا بیٹا تھا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”حمل کو بغیر دلیل کے وارث نہ بناؤ۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1429
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 3137، 3142، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 252، 253، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 18402، 18403، 18404، 18405، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19173، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32019، 32023»
مجالد بن سعید: ضعیف