سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الْغَرْقَى وَالْحَرْقَى باب: ڈوبنے اور جلنے والوں کا وراثتی حکم
حدیث نمبر: 1419
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ «فِي الْقَوْمِ يَمُوتُونَ جَمِيعًا، غَرِقُوا فِي سَفِينَةٍ، أَوْ وَقَعَ عَلَيْهِمْ بَيْتٌ، أَوْ قُتِلُوا لَا يُدْرَى أَيُّهُمْ مَاتَ قَبْلَ الْآخَرِ وَلَا يُوَرَّثُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ إِلَّا أَنْ يُعْلَمَ أَنَّهُ مَاتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَيَرِثُ الْآخَرُ الْأَوَّلَ، وَيَرِثُ الْآخَرَ عَصَبَتُهُ، فَإِنْ لَمْ يَعْلَمُوا أَيُّهُمْ مَاتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَلَا يُوَرَّثُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، وَلَكِنْ يَرِثُهُمْ عَصَبَتُهُمُ الْأَحْيَاءُ»مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی قوم ایک ساتھ مر جائے، مثلاً کشتی میں غرق ہوں یا ان پر مکان گر جائے یا قتل کر دیے جائیں اور یہ معلوم نہ ہو کہ کون پہلے مرا تو بعض کو بعض کا وارث نہ بنایا جائے گا، الا یہ کہ معلوم ہو جائے کہ فلاں پہلے مرا تو دوسرا اس کا وارث ہوگا، اور دوسرے کا وارث اس کے زندہ عصبات ہوں گے، اگر معلوم نہ ہو کہ کون پہلے مرا تو زندہ عصبات وارث ہوں گے۔“