سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الْغَرْقَى وَالْحَرْقَى باب: ڈوبنے اور جلنے والوں کا وراثتی حکم
حدیث نمبر: 1418
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: «كُلُّ قَوْمٍ مُتَوَارِثِينَ عَمَّى مَوْتُ بَعْضٍ قَبْلَ بَعْضٍ فِي هَدْمٍ، أَوْ غَرَقٍ، أَوْ حَرْقٍ، أَوْ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَتَالِفِ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَا يَرِثُ مِنْ بَعْضٍ شَيْئًا لَا يَرِثُونَ، وَلَا يُحْجَبُونَ، يَرِثُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ وَرَثَتُهُ مِنَ الْأَحْيَاءِ كَأَنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحَدٍ مِمَّنْ مَاتَ مَعَهُ قَرَابَةٌ»مظاہر امیر خان
خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں: کہا جاتا تھا کہ جو قوم ہلاکت (مثلاً: دیوار گرنے، غرق ہونے، جلنے) میں ایک ساتھ مرے اور ان میں کسی کے مرنے کا وقت دوسرے سے پہلے معلوم نہ ہو تو ان میں سے کوئی دوسرے سے وراثت نہیں لیتا، نہ ان کی وجہ سے کوئی دوسرا وارث محروم ہوتا ہے، ہر ایک کو اس کے زندہ ورثاء وارث بنیں گے گویا کہ مرنے والوں میں کوئی رشتہ داری نہیں۔