سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الْغَرْقَى وَالْحَرْقَى باب: ڈوبنے اور جلنے والوں کا وراثتی حکم
حدیث نمبر: 1417
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَتْ هِيَ وَابْنُهَا زَيْدُ بْنُ عُمَرَ فَالْتَقَتِ الصَّائِحَتَانِ فِي الطَّرِيقِ فَلَمْ يُدْرَ أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَلَمْ تَرِثْهُ وَلَمْ يَرِثْهَا، وَأَنَّ أَهْلَ صِفِّينَ لَمْ يَتَوَارَثُوا، وَأَنَّ أَهْلَ الْحَرَّةِ لَمْ يَتَوَارَثُوا»مظاہر امیر خان
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا اور ان کا بیٹا زید بن عمر فوت ہو گئے، دونوں کی موت کی آوازیں راستے میں اکٹھی ہو گئیں، معلوم نہ ہو سکا کہ پہلے کون مرا، پس نہ اس نے اس کا وارثی حاصل کی اور نہ اس نے اس کی، اور یہ بھی کہ صفین والوں نے ایک دوسرے سے وراثت نہیں کی، اور اہل حرہ نے بھی ایک دوسرے سے وراثت نہیں کی۔