سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الْغَرْقَى وَالْحَرْقَى باب: ڈوبنے اور جلنے والوں کا وراثتی حکم
حدیث نمبر: 1412
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قَطَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الضَّبِّيُّ، أَنَّ غُلَامًا، رَكِبَ مَعَ أُمِّهِ فِي الْفُرَاتِ فَغَرِقَا فَلَمْ يُدْرَ أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ، فَأَتَيْنَا شُرَيْحًا فَقَالَ: «وَرِّثُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ»مظاہر امیر خان
قطَن بن عبداللہ الضبی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ ایک لڑکا اپنی ماں کے ساتھ فرات پر سوار ہوا، دونوں ڈوب گئے اور معلوم نہ ہو سکا کہ پہلے کون مرا، ہم شریح رحمہ اللہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: ”دونوں میں سے ہر ایک کو دوسرے کا وارث بنا دو۔“