سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الْغَرْقَى وَالْحَرْقَى باب: ڈوبنے اور جلنے والوں کا وراثتی حکم
حدیث نمبر: 1410
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ، أَنَّ سَفِينَةً، غَرِقَتْ بِأَهْلِهَا فَلَمْ يُدْرَ أَيُّهُمْ مَاتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَأَتَوْا عَلِيًّا فَقَالَ: «وَرِّثُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِنْ صَاحِبِهِ»مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک کشتی اپنے سواروں سمیت ڈوب گئی اور یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کون پہلے مرا، تو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”ہر ایک کو دوسرے کا وارث بناؤ۔“