حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنَزِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ حَتَّى أَتَى السُّدَّةَ - سُدَّةَ السُّوقِ -، فَاسْتَقْبَلَهَا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا وَخَيْرِ أَهْلِهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا، ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى دَرَجَ الْمَسْجِدِ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: يَا حَنْظَلَةُ، أَتَرَى هَذَا يُكَفِّرُ عَنْ يَمِينِهِ ؟ إِنَّ لِكُلِّ آيَةٍ كَفَّارَةً، أَوْ قَالَ: يَمِينٌ .سیدنا حنظلہ بن خویلد العنزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا، یہاں تک کہ وہ بازار کے دروازے پر پہنچے، اس کا سامنا کیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کے خیر اور اس کے اہل کے خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر اور اس کے اہل کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر وہ مسجد کی سیڑھیوں تک پہنچے تو ایک شخص کو قرآن کی کسی سورہ پر قسم کھاتے ہوئے سنا۔ تب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے حنظلہ! کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ شخص اپنی قسم کا کفارہ دے سکتا ہے؟ ہر آیت کا کفارہ ہوتا ہے، یا فرمایا: یہ ایک قسم ہے۔“