سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الْغَرْقَى وَالْحَرْقَى باب: ڈوبنے اور جلنے والوں کا وراثتی حکم
حدیث نمبر: 1409
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ عَامَ عَمَوَاسَ فَجَعَلَ أَهْلُ الْبَيْتِ يَمُوتُونَ مِنْ آخِرِهِمْ، فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ، فَكَتَبَ عُمَرُ أَنْ وَرِّثُوا بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ "مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ نے کہا: شام میں طاعون عام عمواس کے سال میں پھیل گیا تو گھر کے گھر کے سب لوگ یکے بعد دیگرے مرنے لگے، اس بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا گیا تو انہوں نے لکھا: ”بعض کو بعض کا وارث بناؤ۔“