سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ مِيرَاثِ السَّائِبَةِ باب: آزاد کردہ غلام کی وراثت کا بیان
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٌ، قَالَ: نا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْحَضَرِ حَضَرِ مُحَارِبٍ أَعْتَقَتْ غُلَامًا لَهَا فَقَالَتْ: انْطَلِقْ فَوَالِ مَنْ شِئْتَ فَانْطَلَقَ الْغُلَامُ فَوَالَى عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَعْمَرٍ فَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ فَخَاصَمَ وَرَثَتُهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَعْمَرٍ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَدَعَاهُ فَأَخْبَرَهُ بِالْقَصَّةِ فَقَالَ لَهُ: «انْطَلِقْ فَوَالِ مَنْ شِئْتَ فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَوَالَاهُ»سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا معاملہ آیا، اس نے اپنے غلام کو آزاد کر کے کہا: ”جاؤ، جس کی چاہو، ولایت اختیار کر لو۔“ غلام سیدنا عبدالرحمٰن بن معمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان کی ولایت اختیار کی، پھر عورت کا انتقال ہو گیا، تو اس کے وارثوں نے سیدنا عبدالرحمٰن بن معمر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے معاملہ پوچھا تو غلام نے سارا واقعہ بیان کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جاؤ، جس کی چاہو، ولایت اختیار کرو۔“ غلام واپس سیدنا عبدالرحمٰن بن معمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کی ولایت اختیار کر لی۔