سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ مَنْ أَسْلَمَ عَلَى الْمِيرَاثِ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ باب: میراث کی تقسیم سے پہلے اسلام قبول کرنے والے کا حکم
حدیث نمبر: 1386
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: سَأَلْتُ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ عَنِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَتَبَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: " إِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَوْمٍ دَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ فِي خفه الْإِسْلَامِ فَمَاتُوا قَالَ: تُرْفَعُ أَمْوَالُ أُولَئِكَ إِلَى بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ. وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ فَيُعَادُّ الْقَوْمَ وَيُعَاقِلُهُمْ، وَلَيْسَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ وَلَا لَهُمْ عَلَيْهِ نِعْمَةٌ، فَاجْعَلْ مِيرَاثَهُ لِمَنْ عَاقَلَ وَعَادَّ "مظاہر امیر خان
اسماعیل بن عیاش کہتے ہیں: میں نے اسحاق بن عبداللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ: ”جو لوگ خفیہ طور پر اسلام لائے اور مر گئے، ان کے مال بیت المال میں جائیں گے، اور جو شخص کسی قوم میں شامل ہو اور ان کے ساتھ خون بہا دے اور اس کا ان سے کوئی رشتہ یا احسان broadcastsہ ہو، تو اس کا میراث انہیں دے دو۔“
وضاحت:
روایت سنداً ضعیف جداً ہے
إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة کو جمہور محدثین نے متروک قرار دیا: ابن معين: ليس بشيء
ابن حبان: يروي الموضوعات
أحمد بن حنبل: لا يكتب حديثه
إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة کو جمہور محدثین نے متروک قرار دیا: ابن معين: ليس بشيء
ابن حبان: يروي الموضوعات
أحمد بن حنبل: لا يكتب حديثه