سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ مَنْ أَسْلَمَ عَلَى الْمِيرَاثِ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ باب: میراث کی تقسیم سے پہلے اسلام قبول کرنے والے کا حکم
حدیث نمبر: 1383
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ، يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ، أَيَرِثُهُ؟ قَالَ: «لَا وَلَا، إِلَّا لِذِي نِعْمَةٍ، مَالُهُ لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَقْلُهُ أَرَاهُ عَلَيْهِمْ»مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ جو شخص کسی کے ہاتھ پر اسلام لائے، کیا وہ اس کا وارث ہوگا؟ فرمایا: ”نہیں، مگر جس نے کوئی احسان کیا ہو، ورنہ اس کا مال مسلمانوں کا ہوگا اور خون بہا ان پر۔“