سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ مَنْ أَسْلَمَ عَلَى الْمِيرَاثِ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ باب: میراث کی تقسیم سے پہلے اسلام قبول کرنے والے کا حکم
حدیث نمبر: 1360
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَدْهَمَ السَّدُوسِيِّ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ نَصْرَانِيَّةً وَلَهَا ابْنَةٌ حَنِيفِيَّةٌ، فَمَاتَتِ الِابْنَةُ وَأَسْلَمَتِ الْأُمُّ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ، فَأَتَوْا بَعْضَ قُضَاةِ الْبَصْرَةِ فَوَرَّثُوهَا، ثُمَّ أَتَوَا الْكُوفَةَ، فَأَتَوْا عَلِيًّا فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: مَا كَانَتِ الْأُمُّ حِينَ خَرَجَتِ الرُّوحُ مِنَ الِابْنَةِ؟ قَالُوا: نَصْرَانِيَّةً. فَقَالَ: قَدْ وَجَبَ الْمِيرَاثُ لِأَهْلِهِ، وَلَكِنْ لَهَا حَقٌّ، كَمِ الْمَالُ؟ فَقَالُوا: كَذَا وَكَذَا شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ أَدْهَمُ، فَأَعْطَاهَا سِتَّمِائَةٍ "مظاہر امیر خان
قوم کے کچھ لوگوں نے کہا: ان کی نصرانی عورت فوت ہوئی، بیٹی مسلمان تھی، ماں نے بیٹی کی وفات کے بعد اسلام قبول کیا، بصرہ کے قاضی نے اسے وارث بنایا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ نے پوچھا: ”بیٹی کے وقت ماں کا مذہب کیا تھا؟“ کہا: ”نصرانی۔“ فرمایا: ”میراث اصل وارث کو مل چکی، مگر ماں کا حق ہے۔“ پھر اسے چھ سو دیے۔