سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ باب: پھوپھی اور خالہ کے وراثتی احکام
حدیث نمبر: 1345
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُفَيٍّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، أَنَّ رَجُلًا انْقَعَرَ عَنْ مَالٍ لَهُ، فَأَتَتِ ابْنَةُ أُخْتِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ الْمِيرَاثَ، فَقَالَ: «لَا شَيْءَ لَكِ، اللَّهُمَّ مَنْ مَنَعْتَ مَمْنُوعٌ، اللَّهُمَّ مَنْ مَنَعْتَ مَمْنُوعٌ»مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی جو اپنے ماموں کے مال پر دعویٰ کر رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے کچھ نہیں، اے اللہ! جسے تو نے روکا، وہ محروم ہے۔“
وضاحت:
سند کی تحقیق:، ● إسماعيل بن عياش:، ثقہ ہے لیکن صرف اہلِ شام سے روایت میں معتبر، یہاں وہ غیر شامی (یمنی) راوی: نضر بن شفي سے روایت کر رہے ہیں، اس لیے ان کی روایت ضعیف مانی جاتی ہے جب غیر شامی سے ہو، ● النضر بن شفي:، مجہول الحال راوی، کوئی صریح توثیق موجود نہیں، ● عمران بن سليم:، بہت غیر معروف راوی ہے، بعض محققین نے کہا ہے: "مجهول" یا "مبہم تابعی"، ◄ لہٰذا یہ روایت سنداً ضعیف ہے — اس میں دو مجہول راوی اور إسماعيل بن عياش کی غیر شامی روایت ہے