حدیث نمبر: 134
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَأَنَا لَا أَدْرِي أَنَّ أَحَدًا يُرِيدُ بِقِرَاءَتِهِ غَيْرَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى خُيِّلَ إِلَيَّ بِآخِرَةٍ أَنَّ أَقْوَامًا يُرِيدُونَ بِقِرَاءَتِهِمْ غَيْرَ اللهِ، فَأَرِيدُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بِقِرَاءَتِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ .مظاہر امیر خان
ابو فراس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! ایک زمانہ ایسا تھا کہ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ کوئی قرآن کی تلاوت سے اللہ عزوجل کے سوا کسی اور کی رضا چاہ سکتا ہے، یہاں تک کہ بعد میں مجھے خیال ہونے لگا کہ کچھ لوگ اپنی تلاوت سے غیر اللہ کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اپنی قراءت اور اعمال میں اللہ عزوجل کی رضا ہی کو مقصود بناؤ۔