سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ باب: پھوپھی اور خالہ کے وراثتی احکام
حدیث نمبر: 1339
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِعَامِرٍ الشَّعْبِيِّ: الْعَمَّةُ أَحَقُّ بِالْمِيرَاثِ أَوِ ابْنَةُ الْأَخِ؟ قَالَ: وَأَنْتَ لَا تَعْلَمُ؟ ابْنَةُ الْأَخِ، أَشْهَدُ عَلَى مَسْرُوقٍ أَنَّهُ قَالَ: «أَنْزِلُوهُنَّ مَنَازِلَ آبَائِهِنَّ»مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے عامر شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ پھوپھی مقدم ہے یا بھتیجی؟ انہوں نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں؟ بھتیجی مقدم ہے۔“ میں گواہی دیتا ہوں کہ مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”انہیں ان کے باپ کے مقام پر رکھو۔“