سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ باب: پھوپھی اور خالہ کے وراثتی احکام
حدیث نمبر: 1338
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ ابْنَةِ الْأَخِ، أَوْلَى أَوِ الْعَمَّةُ، فَقَالَ: ابْنَةُ الْأَخِ، أَشْهَدُ عَلَى مَسْرُوقٍ أَنَّهُ قَالَ: «أَنْزِلُوهُنَّ مَنَازِلَ آبَائِهِنَّ»مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا کہ چچا کی بیٹی مقدم ہے یا پھوپھی؟ انہوں نے کہا: ”چچا کی بیٹی۔“ میں گواہی دیتا ہوں کہ مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”انہیں ان کے باپ کے مقام پر رکھو۔“