حدیث نمبر: 1334
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ رَجُلًا عَرَفَ أُخْتًا لَهُ سُبِيَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَوَجَدَهَا وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا، وَلَا يَدْرِي مَنْ أَبُوهُ، فَاشْتَرَاهُمَا ثُمَّ أَعْتَقَهُمَا، وَأَصَابَ الْغُلَامُ مُوَيْلًا وَمَاتَ، فَأَتَوَا ابْنَ مَسْعُودٍ فَذَكَرُوا ذَلِكَ، فَقَالَ: ائْتِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ فَاسْأَلْهُ عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ ارْجِعْ فَأَخْبِرْنِي بِمَا يَقُولُ لَكَ. فَأَتَى عُمَرَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: مَا أَرَاكَ عَصَبَةً وَلَا بِذِي فَرِيضَةٍ. فَرَجَعَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرَهُ، فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَفْتَيْتَ هَذَا الرَّجُلَ؟ قَالَ: لَمْ أَرَهُ عَصَبَةً وَلَا بِذِي فَرِيضَةٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هَذَا لَمْ تُوَرِّثْهُ مِنْ قِبَلِ الرَّحِمِ، وَلَا وَرَّثْتَهُ مِنْ قِبَلِ الْوَلَاءِ. قَالَ: مَا تَرَى؟ قَالَ: أَرَاهُ ذَا رَحِمٍ وَوَلِيَّ نِعْمَةٍ، وَأَرَى أَنْ تُوَرِّثَهُ. قَالَ: فَوَرَّثَهُ
مظاہر امیر خان

ایک شخص نے جاہلیت میں اپنی بہن کو پکڑا، اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا، باپ کا علم نہ تھا، انہیں خریدا اور آزاد کیا، لڑکا مالدار ہو کر مر گیا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس مقدمہ لایا گیا، آپ نے فرمایا: ”امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ۔“ وہ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نہ عصبہ ہو اور نہ فرض والے۔“ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وہ رحم اور نعمت کا ولی ہے، میں اسے وارث قرار دیتا ہوں۔“ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے وارث بنایا۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1334
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 157، 158، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31632، 31633»