سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ باب: پھوپھی اور خالہ کے وراثتی احکام
حدیث نمبر: 1331
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: انْتَهَى إِلَى زِيَادٍ عَمَّةٌ وَخَالَةٌ، فَقَالَ زِيَادٌ: «أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِقَضَاءِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِيهَا، جَعَلَ الْعَمَّةَ بِمَنْزِلَةِ الْأَبِ فَجَعَلَ لَهَا الثُّلُثَيْنِ، وَجَعَلَ الْخَالَةَ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ فَجَعَلَ لَهَا الثُّلُثَ»مظاہر امیر خان
عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ پھوپھی اور خالہ کا مقدمہ زیاد کے پاس آیا، زیاد نے کہا: ”میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں، انہوں نے پھوپھی کو باپ کا درجہ دے کر دو تہائی دیا اور خالہ کو ماں کا درجہ دے کر ایک تہائی۔“