سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ باب: مختلف ملتوں کے افراد میں وراثت نہ ہونے کا بیان
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُجَالِدٌ، قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ الْإِسْلَامَ يَضُرُّنِي أَمْ يَنْفَعُنِي؟ قَالَ: بَلْ يَنْفَعُكَ، فَمَا ذَاكَ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَبَاهُ كَانَ نَصْرَانِيًّا، فَمَاتَ أَبُوهُ عَلَى نَصْرَانِيَّتِهِ وَأَنَا مُسْلِمٌ، فَقَالَ إِخْوَتِي وَهُمْ نَصَارَى: نَحْنُ أَوْلَى بِمِيرَاثِ أَبِينَا مِنْكَ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: ايتِنِي بِهِمْ. فَأَتَاهُ بِهِمْ، فَقَالَ: " أَنْتُمْ وَهُوَ فِي مِيرَاثِ أَبِيكُمْ شَرْعٌ سَوَاءٌ وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى زِيَادٍ " أَنْ وَرِّثِ الْمُسْلِمَ مِنَ الْكَافِرِ، وَلَا تُوَرِّثِ الْكَافِرَ مِنَ الْمُسْلِمِ فَلَمَّا انْتَهَى كِتَابُهُ إِلَى زِيَادٍ، أَرْسَلَ إِلَى شُرَيْحٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُوَرِّثَ الْمُسْلِمَ مِنَ الْكَافِرِ، وَلَا يُوَرِّثَ الْكَافِرَ مِنَ الْمُسْلِمِ. وَكَانَ شُرَيْحٌ قَبْلَ ذَلِكَ لَا يُوَرِّثُ الْكَافِرَ مِنَ الْمُسْلِمِ، وَلَا الْمُسْلِمَ مِنَ الْكَافِرِ، فَلَمَّا أَمَرَهُ زِيَادٌ قَضَى بِقَوْلِهِ، فَكَانَ إِذَا قَضَى بِذَلِكَ يَقُولُ: هَذَا قَضَاءُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ "شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ایک شخص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”اسلام میرے لیے نقصان دہ ہے یا فائدہ مند؟“ فرمایا: ”فائدہ مند۔“ اس نے کہا: ”میرا باپ نصرانی تھا اور نصرانی حالت میں مر گیا اور میں مسلمان ہوں، میرے نصرانی بھائی کہتے ہیں کہ ہم اپنے باپ کے وارث زیادہ حقدار ہیں۔“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا اور فرمایا: ”تم سب وراثت میں برابر ہو۔“ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا زیاد رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ: ”مسلمان کو کافر سے وارث بناؤ اور کافر کو مسلمان سے وارث نہ بناؤ۔“ اور جب یہ حکم زیاد کو پہنچا تو اس نے شریح رحمہ اللہ کو بلایا اور انہیں اسی کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا، تو شریح رحمہ اللہ نے جب بھی اس طرح فیصلہ کیا تو کہتے: ”یہ امیر المؤمنین کا فیصلہ ہے۔“