حدیث نمبر: 1321
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، وَفَدَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي مِيرَاثِ عَمَّةٍ لَهُ يَهُودِيَّةٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ قَالَ لَهُ عُمَرُ: " أَجِئْتَنِي فِي مِيرَاثِ الْمُغْزِلَةِ بِنْتِ الْحَارِثِ؟ فَقَالَ: أَوَلَسْتُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَا؟ قَالَ: أَهْلُ مِلَّتِهَا مِنْ أَهْلِ دِينِهَا، لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ "
مظاہر امیر خان

شعبی رحمہ اللہ نے کہا: اشعث بن قیس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی یہودی پھوپھی کے وراثت کے بارے میں حاضر ہوئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم مغزلہ بنت حارث کی میراث لینے آئے ہو؟“ اشعث نے کہا: ”کیا میں اس کا زیادہ حقدار نہیں؟“ فرمایا: ”اس کے دین والے اس کے زیادہ حقدار ہیں، دو ملتوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1321
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «إسنادہ صحیح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 1893، والدارمي فى «مسنده» برقم: 3031، 3032، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 138، 140، 141، 144،وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31795، 32089»