سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِأُمٍّ باب: ایسے دو چچازاد بھائیوں کا بیان جن میں ایک ماں شریک ہو
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَوْسُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ عِقَالٍ، أَنَّ شُرَيْحًا أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتِ ابْنَيْ عَمِّهَا، أَحَدُهُمَا زَوْجُهَا وَالْآخَرُ أَخُوهَا لِأُمِّهَا، فَجَعَلَ لِلزَّوْجِ النِّصْفَ، وَجَعَلَ النِّصْفَ الْبَاقِيَ لِلْأَخِ مِنَ الْأُمِّ، فَأَتَوْا عَلِيًّا فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى شُرَيْحٍ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ: كَيْفَ قَضَيْتَ بَيْنَ هَؤُلَاءِ؟ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَضَى، فَقَالَ لَهُ: وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ} [الأحزاب: 6] . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَفَلَا أَعْطَيْتَ الزَّوْجَ فَرِيضَتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ النِّصْفَ، وَأَعْطَيْتَ الْأَخَ فَرِيضَتَهُ السُّدُسَ، وَجَعَلْتَ مَا بَقِيَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ؟حکیم بن عقال رحمہ اللہ نے کہا: شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک عورت کا معاملہ لایا گیا جس نے اپنے دو چچازاد بھائیوں کو چھوڑا، ایک شوہر اور دوسرا ماں شریک بھائی، تو آپ نے شوہر کو آدھا اور باقی ماں شریک بھائی کو دیا، پھر جب یہ معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو آپ نے شریح رحمہ اللہ کو بلایا، پوچھا: ”تم نے کیسے فیصلہ کیا؟“ شریح رحمہ اللہ نے بتایا کہ میں نے «وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ» کی بنا پر کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں چاہیے تھا کہ شوہر کو آدھا اور ماں شریک بھائی کو چھٹا حصہ دیتے اور باقی دونوں میں برابر تقسیم کرتے۔“