سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِأُمٍّ باب: ایسے دو چچازاد بھائیوں کا بیان جن میں ایک ماں شریک ہو
حدیث نمبر: 1306
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتِ ابْنَيْ عَمِّهَا، أَحَدُهُمَا زَوْجُهَا، وَالْآخَرُ أَخُوهَا لِأُمِّهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَخِ مِنَ الْأُمِّ " وَقَالَ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ: «لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأَخِ مِنَ الْأُمِّ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَهُوَ بَيْنَهُمَا»مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا معاملہ لایا گیا جس نے اپنے دو چچازاد بھائیوں کو چھوڑا، ایک اس کا شوہر تھا اور دوسرا ماں شریک بھائی، تو آپ نے فرمایا: ”شوہر کو آدھا مال اور باقی ماں شریک بھائی کو ملے گا۔“ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شوہر کو آدھا، ماں شریک بھائی کو چھٹا حصہ اور باقی ان دونوں میں برابر تقسیم ہو گا۔“