سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِأُمٍّ باب: ایسے دو چچازاد بھائیوں کا بیان جن میں ایک ماں شریک ہو
حدیث نمبر: 1305
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ فِي ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِأُمٍّ، فَقَالُوا لَهُ: إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ جَعَلَ الْمَالَ لِلْأَخِ مِنَ الْأُمِّ؟ فَقَالَ: «رَحِمَهُ اللَّهُ، أَمَا إِنَّهُ كَانَ عَالِمًا لَوْ أَعْطَى الْأَخَ مِنَ الْأُمِّ السُّدُسَ، وَقَسَمَ مَا بَقِيَ بَيْنَهُمَا»مظاہر امیر خان
عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس دو چچازاد بھائیوں کا مسئلہ لایا گیا جن میں سے ایک ماں شریک بھائی تھا، لوگوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مال ماں شریک بھائی کو دے دیا؟ تو فرمایا: ”اللہ ان پر رحم کرے، وہ عالم تھے، اگر وہ ماں شریک بھائی کو چھٹا حصہ دیتے اور باقی دونوں میں تقسیم کرتے تو بہتر تھا۔“