حدیث نمبر: 1300
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ زِيَادًا، كَانَ حَبَسَهُ فِي الظِّنَّةِ، فَاخْتُصِمَ إِلَى زِيَادٍ فِي الْخُنْثَى، فَأَرْسَلَ زِيَادٌ إِلَى جَابِرٍ يَسْأَلُهُ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ، فَقَالَ جَابِرٌ: يَتَّهِمُونَا وَيَحْبِسُونَا، وَيَسْأَلُونَا عَمَّا يَنْزِلُ بِهِمْ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ يُوَرِّثَهُ مِنْ قِبَلِ مَبَالِهِ "
مظاہر امیر خان

جابر بن زید رحمہ اللہ نے کہا: زیاد نے مجھ پر بدگمانی کرتے ہوئے قید کیا، پھر خنثیٰ (ہیجڑا) کے وراثت کے بارے میں فیصلہ مانگا، میں نے کہا: ”ہمیں بدگمان کرتے ہو اور پھر دینی مسئلے میں ہم سے سوال کرتے ہو!“ پھر زیاد کو لکھ بھیجا کہ: ”جس طرف سے وہ پیشاب کرے اس کے مطابق وراثت دے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1300
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 121، 123، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 12642، 12643، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32016»