حدیث نمبر: 13
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ عَنِ الْعَوَّامِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يَقُولُ: لَأَنْ أَكُونَ جَمَعْتُ الْقُرْآنَ، ثُمَّ قُمْتُ بِهِ سَنَةً - كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا ؛ وَذَلِكَ أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: " اقْرَأْ، وَارْقَ، وَرَتِّلْ ! فَيُرْجَى إِذَا كَانَ جَمَعَ الْقُرْآنَ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ " .مظاہر امیر خان
عقبہ بن صعیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو صالح رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اگر میں قرآن جمع کر لوں، پھر ایک سال تک اس کے ساتھ قیام کروں، تو یہ مجھے فلاں فلاں چیز سے زیادہ محبوب ہوگا، کیونکہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ صاحبِ قرآن سے کہا جائے گا: ’پڑھو، چڑھو، اور ترتیل کے ساتھ پڑھو!‘ پس امید کی جاتی ہے کہ جس نے قرآن جمع کیا ہو، وہ مقربین میں شامل ہوگا۔“