حدیث نمبر: 1296
سَعِيدٌ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ فِي ابْنِ مُلَاعَنَةٍ مَاتَ، وَتَرَكَ أُمَّهُ وَأَخَاهُ قَالَ: " لِأَخِيهِ السُّدُسُ، وَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَمَا بَقِيَ فَرُدَّ عَلَيْهِمَا عَلَى قَدْرِ أَنْصِبَائِهِمَا. وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لِأَخِيهِ السُّدُسُ وَمَا بَقِيَ فَلِأُمِّهِ. وَقَالَ: هِيَ عَصَبَتُهُ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: «لِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَلِأَخِيهِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِبَيْتِ الْمَالِ»
مظاہر امیر خان

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ولدِ ملعنہ (یعنی جس کی ماں نے لعان کیا) کے متعلق، جو مر گیا اور اپنی ماں اور بھائی کو چھوڑ گیا، اس کے بھائی کو چھٹا حصہ، ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے اور جو بچے وہ ان دونوں میں ان کے حصوں کے مطابق لوٹا دیا جائے۔“ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بھائی کو چھٹا حصہ اور باقی ماں کو، اور ماں اس کی عصبہ ہے۔“ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ماں کو تیسرا حصہ، بھائی کو چھٹا حصہ اور باقی بیت المال کے لیے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1296
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «إسنادہ ضعیف، وأخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 2995، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 119، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 12620، 12621، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31987»
(1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند، وفي رواية البيهقي ولعله الصواب (محمد بن سالم)، والله أعلم.
قال ابن حجر: محمد بن سالم الھمدانیضعیف