سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّدِّ باب: ترکہ میں رد کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 1293
سَعِيدٌ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ «يَرُدُّ عَلَى كُلِّ وَارِثٍ الْفَضْلَ بِحِسَابِ مَا وَرِثَ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَرُدُّ عَلَى بِنْتِ ابْنٍ مَعَ ابْنَةِ الصُّلْبِ، وَلَا عَلَى أُخْتٍ لِأَبٍ مَعَ أُخْتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَلَا عَلَى جَدَّةٍ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَارِثٌ غَيْرُهَا، وَلَا عَلَى أُخْتٍ لِأُمٍّ مَعَ أُمٍّ شَيْئًا، وَلَا عَلَى الزَّوْجِ، وَلَا عَلَى الْمَرْأَةِ»مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر وارث کو اس کے حصے کے مطابق زائد مال واپس کرتے تھے، البتہ وہ پوتی کے ساتھ حقیقی بیٹی، باپ شریک بہن کے ساتھ حقیقی یا ماں شریک بہن، دادی (جب اکیلی وارث ہو)، ماں شریک بہن کے ساتھ ماں پر، شوہر اور عورت پر نہیں لوٹاتے تھے۔