سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّدِّ باب: ترکہ میں رد کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 1289
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ " لَا يَرُدُّ عَلَى سِتَّةٍ: لَا يَرُدُّ عَلَى زَوْجٍ، وَلَا عَلَى امْرَأَةٍ، وَلَا عَلَى جَدَّةٍ، وَلَا عَلَى إِخْوَةٍ لِأُمٍّ مَعَ أُمٍّ، وَلَا عَلَى بَنَاتِ ابْنٍ مَعَ بَنَاتِ صُلْبٍ، وَلَا عَلَى أَخَوَاتٍ لِأَبٍ مَعَ أَخَوَاتٍ لِأَبٍ أَوْ أُمٍّ قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَقُلْتُ لعِلَقْمَةَ: أَتَرُدُّ عَلَى الْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ مَعَ الْجَدَّةِ؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَرُدُّ عَلَى جَمِيعِهِمْ إِلَّا الزَّوْجَ وَالْمَرْأَةَ "مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چھ افراد پر مال واپس نہیں کرتے تھے، شوہر پر، عورت پر، دادی پر، ماں شریک بھائیوں پر جب ماں موجود ہو، پوتیوں پر جب اصلی بیٹیاں موجود ہوں، اور باپ شریک بہنوں پر جب حقیقی یا ماں شریک بہنیں موجود ہوں، ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: میں نے علقمہ رحمہ اللہ سے پوچھا: ”کیا دادی کے ساتھ ماں شریک بھائیوں پر مال لوٹاؤ گے؟“ کہا: ”اگر چاہو۔“ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سب پر لوٹاتے تھے مگر شوہر اور عورت پر نہیں۔