حدیث نمبر: 125
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ عَنْ كِتَابِ الْمُعَلِّمِ، فَقَالَ: كَانَ مُعْلِّمٌ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ عِنْدَهُ أَوْلَادُ أُولَئِكَ الضِّخَامِ، وَكَانَ مَمْلُوكًا، وَكَانَ مَوَالِيهِ يُكَلِّفُونَهُ الشَّيْءَ، فَيَقُولُ الْغِلْمَانُ: دَعْنَا نَكْفِيكَ - فَيَأْبَى عَلَيْهِمْ .
مظاہر امیر خان

محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے معلم کی تحریر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مدینہ میں ایک معلم تھا، اس کے پاس بڑے لوگوں کے بچے پڑھتے تھے، وہ غلام تھا، اس کے مالک اس سے کچھ کام لینے کا مطالبہ کرتے، تو بچے کہتے: ہمیں کرنے دو، مگر وہ انہیں ایسا کرنے سے روکتا تھا۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 125
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»