سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ قَوْلِ عُمَرَ فِي الْجَدِّ باب: دادا کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول
حدیث نمبر: 1247
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ «فِي رَجُلٍ تَرَكَ جَدَّهُ وَأُمَّهُ وَأُخْتَهُ، فَجَعَلَ لِلْأُخْتِ النِّصْفَ، وَلِلْأُمِّ الثُّلُثَ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسَ» وَإِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ جَعَلَ لِلْأُخْتِ النِّصْفَ، وَلِلْأُمِّ السُّدُسَ، وَلِلْجَدِّ الثُّلُثَ " وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ جَعَلَهَا مِنْ تِسْعَةٍ، فَجَعَلَ لِلْأُمِّ الثُّلُثَ، وَجَعَلَ مَا بَقِيَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْأُخْتِ، لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ "مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مسئلے میں جہاں وارث دادا، ماں اور بہن تھے، فیصلہ کیا کہ بہن کو نصف، ماں کو تہائی اور دادا کو چھٹا حصہ دیا جائے۔ جبکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بہن کو نصف، ماں کو چھٹا، اور دادا کو تہائی دیا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ماں کو تہائی دیا اور باقی مال دادا اور بہن کے درمیان لڑکے کے دو حصے اور لڑکی کے ایک حصہ کے تناسب سے تقسیم کیا۔