سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ قَوْلِ عُمَرَ فِي الْجَدِّ باب: دادا کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول
حدیث نمبر: 1242
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ فِي زَوْجٍ وَأُمٍّ وَأُخْتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَجَدٍّ. قَالَ: قَالَ فِيهَا عَلِيٌّ: «لِلزَّوْجِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْأُمِّ سَهْمَانِ، وَلِلْجَدِّ سَهْمٌ، وَلِلْأُخْتِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ» وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «لِلزَّوْجِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْأُمِّ سَهْمٌ، وَلِلْجَدِّ سَهْمٌ، وَلِلْأُخْتِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ» وَقَالَ فِيهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: «لِلزَّوْجِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْأُمِّ سَهْمَانِ، وَلِلْجَدِّ سَهْمٌ، وَلِلْأُخْتِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، ثُمَّ يُضْرَبُ جَمِيعُ السِّهَامِ فِي ثَلَاثَةٍ، فَيَكُونُ سَبْعَةً وَعِشْرِينَ سَهْمًا، لِلزَّوْجِ مِنْ ذَلِكَ تِسْعَةٌ، وَلِلْأُمِّ سِتَّةٌ، وَيَبْقَى اثْنَا عَشَرَ سَهْمًا، وَلِلْجَدِّ مِنْ ذَلِكَ ثَمَانِيَةٌ، وَلِلْأُخْتِ أَرْبَعَةٌ»مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ تھا کہ اگر شوہر، ماں، باپ و ماں کی طرف سے بہن، اور دادا وارث ہوں تو شوہر کو تین حصے، ماں کو دو حصے، دادا کو ایک حصہ، اور بہن کو تین حصے دیے جائیں، جبکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ماں کو ایک حصہ دیا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے تقسیم کو تین سے ضرب دے کر کل 27 حصے بنائے اور ان کے مطابق تقسیم کی۔
وضاحت:
امام ذہبی (سیر أعلام النبلاء، 4/212): "لم يلق من الصحابة إلا أنس بن مالك، على خلاف فيه."
➤ یعنی: ان کی ملاقات صحابہ سے ثابت نہیں سوائے انس بن مالک کے، وہ بھی اختلاف کے ساتھ۔
ابن سعد (الطبقات الكبرى): "وكان لا يروي عن الصحابة كثيرًا، إنما يروي عن التابعين."
➤ یعنی: وہ زیادہ تر تابعین سے روایت کرتے تھے، صحابہ سے براہِ راست روایت بہت کم ہے۔
ابن حجر (تهذيب التهذيب): "مرسل كثير."
➤ یعنی: ان کی روایات اکثر مرسل (یعنی صحابی کو بلاواسطہ نقل کرتے ہیں) ہوتی ہیں۔
➤ یعنی: ان کی ملاقات صحابہ سے ثابت نہیں سوائے انس بن مالک کے، وہ بھی اختلاف کے ساتھ۔
ابن سعد (الطبقات الكبرى): "وكان لا يروي عن الصحابة كثيرًا، إنما يروي عن التابعين."
➤ یعنی: وہ زیادہ تر تابعین سے روایت کرتے تھے، صحابہ سے براہِ راست روایت بہت کم ہے۔
ابن حجر (تهذيب التهذيب): "مرسل كثير."
➤ یعنی: ان کی روایات اکثر مرسل (یعنی صحابی کو بلاواسطہ نقل کرتے ہیں) ہوتی ہیں۔