سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ قَوْلِ عُمَرَ فِي الْجَدِّ باب: دادا کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول
حدیث نمبر: 1239
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، " أُتِيَ فِي فَرِيضَةٍ فَفَرَضَهَا، فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الْقَابِلِ شَهِدْتُهُ أُتِيَ فِي تِلْكَ الْفَرِيضَةِ فَفَرَضَهَا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: شَهِدْتُكَ عَامَ الْأَوَّلِ فَرَضْتَهَا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَالَ: تِلْكَ عَلَى مَا فَرَضْنَا، وَهَذِهِ عَلَى مَا فَرَضْنَا "مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک مسئلے پر سوال کیا گیا تو آپ نے ایک طرح فیصلہ دیا، پھر اگلے سال اسی مسئلے پر مختلف فیصلہ کیا۔ جب سوال کیا گیا تو فرمایا: ”پہلا فیصلہ اسی وقت کے لیے تھا اور یہ فیصلہ اب کے لیے۔“
وضاحت:
سِماک بن الفضل مختلف فیہ، بعض نے ضعیف کہا، لیکن اگر اس کی روایت متابعات سے ہو تو قبول کی جاتی ہے، مسعود بن الحکم تابعی، یہ روایت صرف اسی سند سے معروف ہے، ان کی توثیق محدود ہے ? سند میں کچھ ضعف ہے (خصوصاً سِماک اور مسعود کے سبب)، مگر متن تاریخی و اجتہادی سیاق میں قوی المعنی ہے۔