سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ قَوْلِ عُمَرَ فِي الْجَدِّ باب: دادا کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول
حدیث نمبر: 1236
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ يُقَاسِمَانِ بِالْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ السُّدُسُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ مُقَاسَمَةِ الْإِخْوَةِ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ: «إِنِّي لَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَجْحَفْنَا بِالْجَدِّ، فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَقَاسِمْ بِهِ مَعَ الْإِخْوَةِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ الثُّلُثُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ مُقَاسَمَتِهِمْ. فَأَخَذَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ»مظاہر امیر خان
سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بھائیوں کے ساتھ دادا کا مال تقسیم کرتے تھے، یہاں تک کہ اگر دادا کے لیے بھائیوں کے ساتھ تقسیم کرنا اس کے لیے نقصان دہ ہوتا تو اسے چھٹا حصہ دے دیتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”ہم نے دادا کے ساتھ زیادتی کی، اب اگر یہ خط تمہیں ملے تو دادا کو بھائیوں کے ساتھ تقسیم کرو یہاں تک کہ اس کے لیے تہائی حصہ تقسیم سے بہتر ہو۔“