سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الْجَدِّ باب: دادا کے (وراثت میں) احکام کا بیان
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطِ، قَالَ سَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْجَدِّ شَيْئًا؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ: مَا أَعْطَاهُ؟ قَالَ: أَعْطَاهُ سُدُسَ مَالِهِ , قَالَ: مَاذَا مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي , قَالَ: لَا دَرَيْتَ، وَقَالَ آخَرُ: لِي عِلْمٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَاذَا أَعَطَى الْجَدَّ؟ أَعْطَاهُ ثُلُثَ مَالِهِ , قَالَ: مَاذَا مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ: لَا دَرَيْتَ، قَالَ آخَرُ: لِي عِلْمٌ. مَاذَا أَعْطَاهُ؟ أَعْطَاهُ نِصْفَ مَالِهِ، قَالَ: مَاذَا مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي , قَالَ: لَا دَرَيْتَ، قَالَ آخَرُ: لِي عِلْمٌ. مَا أَعْطَاهُ؟ قَالَ: أَعْطَاهُ الْمَالَ كُلَّهُ , قَالَ: مَاذَا مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ، فَلَمَّا وَضَعَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الْفَرَائِضَ أَعْطَاهُ سُدُسَ مَالِهِ مَعَ الْوَلَدِ الذَّكَرِ، وَأَعْطَاهُ ثُلُثَ مَالِهِ مَعَ الْإِخْوَةِ، وَأَعْطَاهُ نِصْفَ مَالِهِ مَعَ الْأَخِ وَأَعْطَاهُ الْمَالَ كُلَّهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ وَارِثٌ "سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا: ”کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دادا کے بارے میں کچھ سنا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: ”میں نے۔“ فرمایا: ”کیا دیا تھا؟“ کہا: ”مال کا چھٹا حصہ۔“ پوچھا: ”اس کے ساتھ کون وارث تھے؟“ کہا: ”معلوم نہیں۔“ فرمایا: ”کچھ نہیں جانتے۔“ دوسرے نے کہا: ”میرے پاس علم ہے، دادا کو مال کا تیسرا حصہ دیا۔“ پھر وہی سوال اور جواب۔ تیسرے نے کہا: ”مال کا آدھا دیا۔“ چوتھے نے کہا: ”پورا مال دیا۔“ سب سے عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب معلوم نہیں تو کچھ نہیں جانتے۔“ پھر جب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے وراثت کے حصے طے کیے تو دادا کو بیٹے کے ساتھ چھٹا حصہ، بھائیوں کے ساتھ تیسرا حصہ، ایک بھائی کے ساتھ آدھا مال اور اگر کوئی وارث نہ ہو تو پورا مال دیا۔