حدیث نمبر: 1214
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ النَّاسَ لَا يَأْخُذُونَ بِقَوْلِي وَلَا بِقَوْلِكَ وَلَوْ مُتُّ أَنَا وَأَنْتَ مَا اقْتَسَمُوا مِيرَاثًا عَلَى مَا نَقُولُ، قَالَ: «فَلْيَجْتَمِعُوا فَلْنَضَعْ أَيْدِيَنَا عَلَى الرُّكْنِ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلَ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ، مَا حَكَمَ اللَّهُ بِمَا قَالُوا»
مظاہر امیر خان

میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”لوگ نہ میری بات مانتے ہیں نہ آپ کی، اگر میں اور آپ مر جائیں تو وہ وراثت ہماری کہی ہوئی تقسیم پر نہیں کریں گے۔“ انہوں نے کہا: ”تو آؤ، ہم کعبہ کے پاس ہاتھ رکھ کر بددعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اللہ کی لعنت اس پر ہو، کیونکہ اللہ نے ہمارے کہنے کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1214
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 37، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19024»
قال ابن حجر: عبد الله بن أبي نجيح ثقة رمي بالقدر وربما دلس (یہاں عن سے روایت کر رہے ہیں)۔ محدثین کے بقول وہ عطاء سے تدلیس بھی نہیں کرتے تھے۔
عطاء بن رباح کا ابن عباس سے سماع ثابت ہے۔ قال ابن حجر: سمع ابن عباس، وأبا هريرة، وغيرهما." (تهذيب التهذيب، جلد 1، صفحہ 309)