سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الْمُشَرَّكَةِ باب: مشترکہ وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 1205
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، أَنَّ فَرِيضَةً كَانَتْ فِيهِمُ امْرَأَةٌ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَإِخْوَتَهَا لِأُمِّهَا، وَإِخْوَتَهَا لِأَبِيهَا وَأُمِّهَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْأُمِّ السُّدُسُ وَلِإِخْوَتِهَا مِنَ الْأُمِّ مَا بَقِيَ، تَكَامَلَتِ السِّهَامُ، قَالَ هُزَيْلٌ: فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ "مظاہر امیر خان
ایک عورت نے اپنے شوہر، ماں، ماں کے بھائیوں اور باپ و ماں دونوں کے بھائیوں کو چھوڑا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا: ”شوہر کو آدھا، ماں کو تہائی اور باقی ماں کے بھائیوں کو دیا جائے۔“ جب یہ بات سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بتائی گئی تو انہوں نے کہا: ”جب تک یہ عالم (ابن مسعود) تمہارے درمیان ہیں، مجھ سے سوال نہ کرو۔“